ابنا: آیت اللہ کاشانی نے امریکی ڈرون کی ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتےہوئے امریکی قوم سے سوال کیا کہ کیا کسی ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے جاسوسی کرنا جرم نہیں ہے؟ اور کیا عالمی قوانین میں اس بات کی اجازت دی گئي ہے؟
خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے قانون چار اور شق دو میں کہا گيا ہے کہ کسی ملک کی ارضی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قوانین کے برخلاف ہے اور ملک پر جارحیت شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائي حدود کی خلاف ورزی کرنے پر ایران سے معافی مانگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایرانی قوم سے معافی مانگنے کے بجائے بے شرمی سے جاسوس ڈرون کو واپس کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔
آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ امریکہ غلط پالیسیوں کی اساس پر علم و سائنس سے غلط فائدہ اٹھارہا ہے جس کا نتیجہ دنیا میں خونریزی اور جرائم کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اقدامات سے دنیا میں بے اعتمادی اور ظلم و ستم رائج ہوچکے ہیں اور امریکہ کی درندگي سے اقوام عالم اضطراب اور تشویش کا شکار ہوچکی ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں صہیونی ریاست کے خلاف نو قراردادوں کی منظوری کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ ان قراردادوں سے گریٹر اسرائيل بنانے کا صہیونی ریاست کا خواب چکناچور ہوگيا ہے۔ ...............
/169